اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایوو مورالیس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایران کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے بڑی طاقتوں کے مقابل ایک قوم کی ثابت قدمی اور خودداری کی مثال قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی مقامی اور خودمختار ٹیکنالوجی کی ترقی نے اس ملک اور اس کے حریفوں کے درمیان موجود فوجی فرق کو کسی حد تک کم کرنے میں مدد دی ہے۔
بولیویا کے سابق صدر نے جنگی پروپیگنڈے، نفسیاتی جنگ اور گمراہ کن اطلاعات کے مقابل ایرانی عوام کے اتحاد کو بھی سراہا۔ ان کے مطابق ایران نے امریکا کی مالی اور اقتصادی پابندیوں کے مقابل بھی مؤثر ردعمل دینے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
مورالیس نے کہا کہ ’’عالمی طاقتیں پابندیاں عائد، دھمکیاں اور جنگ مسلط کرسکتی ہیں، لیکن کسی آزاد قوم کی مرضی کو تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کرسکتیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ بڑی طاقتیں طویل اور تھکا دینے والی جنگوں میں الجھ رہی ہیں، جبکہ ایران نے ثابت کیا ہے کہ قومی خودمختاری کے ذریعے معاشی جنگ میں بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
بولیویا کے سابق صدر رواں سال فروری میں بھی چاپارے کے علاقے میں ایک بڑے عوامی اجتماع میں شریک ہوئے تھے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا تھا کہ وہ ملک سے فرار نہیں ہوئے بلکہ عوامی اجتماعات میں شرکت اور اپنے حمایت یافتہ امیدواروں کی حمایت کے ذریعے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مورالیس کو بالخصوص بولیویا کے دیہی علاقوں اور مقامی آبادیوں میں اب بھی خاصی عوامی حمایت حاصل ہے۔
آپ کا تبصرہ